مکہ صدیوں سے تجارتی مرکز رہا. ایک دن یہاں آنے والے یمنی تاجروں کے قافلے کو لوٹ لیا گیا. تاجروں نے مقامی لوگوں سے مدد مانگی مگر کوئی شنوائی نا ہوئی. بلآخر ایک تاجر نے دکھی آواز میں اپنے اوپر بیتنے والی ظلم کی داستان پر ایک نظم پڑھی. یہ نظم جناب رسول اللهﷺ کے چچا زبیر ابن ہاشم نے سنی تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے. آپ نے مکہ کے تمام قبائل سےاختلافات ختم کرنے، ظلم کے خلاف یکجا ہو کر لڑنے، عدل و انصاف کرنے اور معاشی حالات اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور امن و امان قائم رکھنے کا عہد لیا جسے“حلف الفضول” کہا جاتا ہے. یہ معاہدہ مکہ کے ایک سردار عبدالله بن جدان کے گھر طے پایا جہاں اس وقت جناب رسول اللهﷺ اور آپ کے عظیم دوست سیدناابو بکرصدیق بھی موجود تھے. نبوت ملنے کے بعد بھی آپﷺ نے اس معاہدے کی بے حد تک تعریف کی اور کہا کہ اگر مجھے آج بھی ایسے معاہدے میں شریک ہونا پڑے تومجھے فخر ہو گا اور اس معاہدے میں کوئی بھی شق ایسی نہیں تھی جس سے اختلاف کیا جا سکے

اس تاریخ ساز معاہدے اور پھر رسول اللهﷺ کے اس کے حق میں دلائل سے تین باتیں مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہیں. پہلی یہ کہ اسلام عدل و انصاف کے جن زریں اصولوں پر انسانی معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے انسانیت قبل ازاسلام ہی ان سے آشنا تھی اور یہی رسول اللهﷺ سے پہلے آنے والے انبیاء کی تبلیغ کر محور رہے. اسلام نے انہی اصولوں اور قاعدوں کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا اور نسل انسانی کو تاریک اندھیروں سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا. دوسرا یہ کہ اسلام کوئی غیر فطری یا انوکھا طرز زندگی نہیں، عدل انصاف، امن وسکون اسلام سے پہلے بھی انسانوں کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے. تیسرا پہلو جو کہ شاید موجودہ دور میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے وہ مسلمانوں پر غیر مسلموں کے بناۓ گئے ایسے قوانین یا معاہدوں کا احترام کرنا ہے جن میں مشترکہ معاشرتی مفاد، امن وانصاف، نسل انسانی اور اس کائناتی نظام کی فلاح و بہبود کو ملعوظ رکھا گیا ہو. اسی اصول کے تحت موجودہ دور میں کسی بھی مسلمان ریاست کیلئےاقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا لازم ہے

دلچسپ بات یہ کہ جناب رسول اللهﷺ کی تعلیمات کے برعکس اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں مسلمانوں کو غیر مسلم قونین کی پاسداری نہ کرنے اور صرف اسلامی قوانین کا پابند رہنے پر زور دیا گیا. یہاں یہ پہلو بھی واضح ہو گیا کہ اسلام کوئی محدود نظام نہیں نا ہی اس کا دائرہ کار محدود ہے. اسلامی معاشرہ ارتقاء پسند ہے. اسلام کے تمام قوانین اور اصولوں کے اندر پنہاں اصل روح کی اہمیت ہے. اسلام ہر اس قانون اور اصول کو پسند کرتا ہے جس کی اصل روح مشترکہ انسانی بقاء ومفاد، انصاف وامن ہو ، گو کہ وہ کسی بھی دوسرے معاشرے یا مذھب سےاخذ کیا گیا ہو

عمران خان اور موجودہ حکومت نے جس انداز سے ہالینڈ میں بننے والے گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھایا یہ ایک جرات مندانہ اور قابل تحسین عمل ہے. امید ہے خان صاحب او-آئی-سی، اقوام متحدہ سمیت دیگر بین القوامی فورمز پر بھی اس معاملے کو اٹھائیں گے. جیسا کہ مفتی انجنیئر مرزا محمد علی نے مشورہ دیا کہ پاکستان، ایران، ترکی اور سعودی عرب کو بین المذھبی کانفرنس بلانی چاہیے جس میں ویٹیکن سٹی سے پاپ فرانسس، بدھ مت اور یہودی مذھب کے پیشواؤں کو بلانا چاہے اور ایک مشترکہ علامیہ جاری کرنا چاہیے کہ آزادی اظہار کے نام پرکسی بھی مذہبی کتاب یا مذھبی پیشواؤں کی تضحیق کو روکا جاۓ. آج کی مہذب دنیا کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر کروڑوں اور اربوں انسانوں کی دل آزاری کی جاتی ہے. انتہائی افسوس کے ساتھ یہاں یہ لکھنا بھی ضروری ہے کہ مسلمان بھی دوسرے مذاہب اور ان کی تعلیمات کا تمسخر اڑانے میں کسی سے کم نہیں. ہم میں بہت ہی کم لوگ ہوں گے جنہوں نے قرآن کےان حکمت بھرے الفاظ پر کبھی غور کیا ہو

اور جن لوگوں کو یہ مشرک خدا کے سوا پکارتے ہیں ان کو برا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں خدا کو بےادبی سے بے سمجھے برا (نہ) کہہ بیٹھیں۔
سورۂ الانعام
“اور آپﷺ سے پہلے پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے”
سورۂ الانعام

جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو پاکستان میں ایک کہرام مچا ہے. حکومت نے میاں عاطف کو معیشت کی بحالی کے لیے بنائی گئی اکنامک ایڈوائزری کونسل کا ممبر مقرر کیا ہے. جن کا تعلق قادیانی مذھب سے ہے. پاکستان کا آئین قادیانیوں کو ایک اقلیت سمجھتا ہے. عاطف میاں کو بھی دیگر اقلیتوں کے لوگوں کی طرح یہ حق ملنا چاہے کہ وہ پاکستان میں نوکری، کاروبار یا کوئی بھی حکومتی عھدہ رکھ سکیں. عاطف میاں کے ماضی پر تحقیق ہونی چاہیے، ممکن ہے وہ ویسے ہی پیدائشی قادیانی ہوں جیسے بہت سے لوگ پیدائشی مسلمان، عیسائی اور ہندو ہوتے ہیں. اگر ان کا تعلق اس گروہ سے نہیں جو دنیا بھر میں پاکستان اور اسلام کے خلاف لابی کے طور پر کام کر رہا ہے تو یقینی طور پر وہ اس میریٹ پر پورا اترتے ہیں کہ انہیں معاشی معملات میں کوئی ذمداری سونپی جاسکے. اگر مذھب اور عقیدے کی بنیاد پر باقی دنیا معاملات چلانے لگے تو اس ناچیز سمیت غیر مسلم دنیا میں کام کرنے والے کروڑوں مسلمان بیروزگار ہو جائیں. بہرحال یہ ایک نازک معاملہ ہے اور اس پر گفتگو بھی احتیاط کی متقاضی ہے. وفاقی وزیر اطلاعات کے بیان کے برعکس حکومت کو ہر صورت اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی اعتماد میں لینا چاہےاور اس معاملے پربحث ہونی چاہے تا کہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نا ہو. ہر نازک معاملے پر خاموشی اور پردہ ڈالنے سے وقتی چھٹکارا تو مل سکتا ہے لیکن دائمی اعتدال، برداشت اور امن وامان معاملات مل بیٹھ کر سلجھانے سے ہی پیدا ہو سکتے ہیں. ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر کیوں جناب رسول اللهﷺ نے جنگی قیدیوں کو مسلمانوں کی تعلیم جیسی اہم ذمداری سونمپی؟ کیا یہ قیدی اسلام کے دشمن نہیں تھے؟ جہاں اکثریت عوام، حکمران و افسران مسلمان ہوں وہاں ایک دو یا چند قادیانی کیا نقصانات پہنچا سکتے ہیں؟

ساتھ ہی حکومت کو تمام اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے. ہمیں بحثیت مسلمان مذہب کے نام نسل کشی، نفرت اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنی چاہے. ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے پیارے آقاﷺ دو جہاں اور آپ کے ساتھیوں کو صرف کلمہ توحید بلند کرنے کی وجہ سے کن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی کشمیر فلسطین اور برما میں مسلمان بدترین مذھبی استحصال کا شکار ہیں. ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری مذھبی ذمداری صرف وقتی جذباتی احساسات ہی پیدا کرنا ہے. خدا انسان اور مسلمانوں کو کئی طرح آزماتا ہے. یہ آزمائش کہیں دین کے لیے مر مٹنے اور کہیں جناب رسول الله والی سوچ، فکر، صبر، حکمت اور معاملہ فہمی کی تقاضی ہے اور مولانا محمد اسحاق مدنی مرحوم کے بقول

“قادیانیت ایک فتنہ ہے. انہیں مسلمان نا سمجھیں، لیکن نفرت اور قتل نہ کریں اور سب انسانی حقوق دیں”

!علامہ اقبال

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو

Leave a comment