عباسی دور میں مسلمانوں کے اندر دین کا زوال آیا. اس دور میں مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ کچھ رسمی اعمال اور مخصوص وضع قطع دین داری کی علامت بن گئے. اسی زمانے میں قصہ خواں پیدا ہوۓ وہ ان رسمی اعمال کے پراسرار فضائل پر خود ساختہ کہانیاں لوگوں کو سننانے لگے. لوگ اس رسمی دین داری پر پختہ ہو گئے اور اپنا محاسبہ کرنے کا جذبہ ختم ہو گیا. موجودہ زمانے میں بھی ایسی شخصیات اور جماعتیں پیدا ہوئی ہیں جو لوگوں کو ایسے ہی خود ساختہ قصے سنا کر ان کے اندر محاسبے کا مزاج تو نہیں پیدا کرتےالبتہ فضیلت کی کہانیوں کی بدولت ان میں یہ فرضی یقین پیدا کر رہے ہیں کہ تمہاری رسمی دین داری ہی اصل دین داری ہے اور اسی کی وجہ سے تم خدا کی نصرت حاصل کرو گے اور آخر جنت میں پوھنچ جاؤ گے. یہ بلاشبہ گمراہی ہے، جو لوگ اس سے ناواقف ہیں وہ اندھے پن کا شکار ہیں اور جو واقف ہو کر خاموش ہیں وہ حدیث کے مطابق گونگے شیطان ہیں. موجودہ دور میں اصلاح امت کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ مسلمانوں کو اس گمراہی سے باہر نکالا جاۓ. پچھلی امتوں کے زوال کی وجہ جس چیز کو قرآن (سورۂ البقرہ آیت ٧٨) میں قرار دیا گیا ہے وہ یہی خوش فہمی ہے. جس کا مطلب ہے کچھ رسمی اعمال کرنا اور ان کے بدلے بڑے بڑے انعامات لینا. یہی پہلی قوموں کی تباہی کا سبب بنا اور حدیث کے مطابق یہی آخری وقت میں مسلمانوں کے زوال کی وجہ بنے گا.

از مولانا وحید الدین خان

khan_4

Leave a comment