
.لبنانی شاعر و مفکر خلیل جبران کو بعض لوگ شکسپئیر اور لاؤ تزو کے بعد تاریخ کا تیسرا سب سے بڑا شاعر مانتے ہیں
اس نے 1923 میں اپنی شہرہ آفاق کتاب “البنی” لکھی جس کا اردو سمیت چالیس زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے
یہ خلیل کی سب سے بہترین کتاب سمجھی جاتی ہے جس میں اس نے زندگی مختلف پہلوؤں پر اپنے مخصوص انداز میں بات کی ہے. یہ انتہائی دلچسب اور گہری کتاب ہے جسے ایک صدی بعد بھی اتنی ہی پذیرائی حاصل ہے جتنی پہلی نسلوں میں ملی.
کتاب کے ہر باب کا آغاز کسی آدمی کے جناب رسول الله سے سوال پر ہوتا ہے. پھر آقا جواب دیتے ہیں. یہ جوابات خلیل کی فکر، علم وحکمت, رسول الله، قرآن اور خدا سے حقیقی عشق کی عکاسی کرتے ہیں.
کچھ آپ سے شیئر کرتا ہوں.
________________
🖊شادی:
المترا نے کہا
شادی کے بارے تمہاری کیا راے ہے آقا ؟
اس نے کہا!
تم مرد عورت ایک ساتھ پیدا ہوۓ ہو
ابد تک ساتھ رہو گے
تم ایک دوسرے سے محبت کرو مگر محبت کو زنجیر نا بناؤ
ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہو مگر چمٹو نہیں
ایک دوسرے کا پیالہ بھرو مگر ایک ہی پیالے میں مت پیو.
ایک دوسرے کے ساتھ گاؤ ناچو مگر ایک دوسرے سے آزاد رہو
اس لیے کہ کلیسا کے ستون ایک دوسرے سے الگ الگ ہی رہتے ہیں.
اور شاہ بلوط اور سرو کے درخت ایک دوسرے کے ساۓ میں پروان نہیں چڑھتے.
___________________
🖊بچے:
ایک عورت نے بچے کو چھاتی سے لگاتے ہوۓ کہا
بچے کیا ہیں؟
مصطفیٰ نے کہا!
تمھارے بچے تمھارے نہیں ہیں
وہ زندگی کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں.
تم انھیں اپنی محبت دو مگر اپنی افکار ان پر مسلط نا کرو
اس لیے کہ ان کے اپنے افکار ہیں.
تم سب کمانیں ہو جنسے تمھارے بچے زندہ تیروں کی طرح نکل جاتے ہیں.
___________________
🖊عطاو بخشش:
ایک دولت مند نے کہا عطاو بخشش کیا ہے؟
مصطفیٰ نے کہا!
کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو بہت کم دیتے ہیں
یہ اپنی بخشش کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں
تم اکثر کہتے ہو
میں ضرور دوں گا لیکن اس کو جو مستحق ہو گا
لیکن یہ بات نہ تمھارے باغ کے درخت کہتے ہیں نا تمھارے مویشی
تم ہوتے کون کو کہ لوگ تمھارے سامنے اپنا سینہ چاک کریں؟
اور اپنی عزت نفس مجروح کریں.
______________________
🖊کل و شرب:
ایک بوڑھے نے کہا
ہمیں کھانے پینے کے بارے میں بتا!
مصطفیٰ نے کہا!
جب تم کسی حیوان کے گلے پر چھری پھیرنے لاگو تو اس بے زبان سے دل ہی دل میں کہو!
وہی قوت جو تجھے ذبح کرتی ہے مجھے بھی ذبح کرتی ہے
میں بھی تمہاری طرح فنا کے گھاٹ اترنےوالا ہوں.
______________________
🖊محنت:
کسان نے کہا محنت کیا ہے؟
میں کہتا ہوں
زندگی ظلمت ہے اگر اس میں ایک طلب نہیں
طلب اندھی ہوتی ہے اگر اس میں علم نہیں
علم بے معنی ہے اگر عمل سے ہم آہنگ نہیں
عمل کھوکھلا ہے اگر اس میں محبت نہیں
اور جب تمھارے عمل میں محبت شامل ہو جاۓ تو تم خدا سے وابستہ ہو جاتے ہو.
_________________
🖊گھر:
اب ایک معمار آگے بڑھا
اس نے کہا!
ہمیں گھروں کے متعلق کچھ بتا
مصطفیٰ نے کہا
مجھے بتاؤ کیا یہ کیا تمھارے گھروں میں آسائش اور آسائش کی ہوس کے علاوہ کچھ ہے؟
آسائش کی ہوس جو چور بن کر تمھارے گھروں میں آتی ہے
پھر مہمان بن جاتی ہے
پھر مہزبان بنتی ہے
اور آخر میں پھر مالک بن بیٹھتی ہے.
میری جان کی قسم آسائش کی ہوس روح کے شعلے کو بھجا دیتی ہے
اور پھر ہنستی ہوئی اس کے جنازے کے ساتھ چلتی ہے.
_______________________
🖊جرم اور سزا:
ایک قاضی آگے بڑھا اور بولا
ہمیں جرم اور سزا کے متعلق کچھ بتا
اور مصطفیٰ نے جواب دیا!
جب تم دوسروں کے حق میں زیادتی کرتے ہو تو اپنی روح کو زخمی کرتے ہو.
اے شہر کے انصاف گرو
اگر تم میں سے کوئی کسی خیانت کار بیوی کو انصاف کی پیش گاہ میں لاۓ
تو اسے چاہے کہ اس کے شوہر کے دل کو بھی ترازو میں رکھے اور اس کی روح کو بھی پیمانے میں ناپے
تم اس شخص کو کیسے سزا دے سکتے ہو جو اپنے افعال اور فریب اور زیادتی کا مرتکب ہوا لیکن خود بھی دوسروں کی زیادتی اور فریب کا شکار بنا؟
_____________________
🖊آزادی:
پھر ایک خطیب نے کہا
ہمیں آزادی کے بارے کچھ بتا.
مصطفیٰ بولا
اپنی جان کی قسم تم حقیقی معنی میں آزادی اس وقت حاصل کرو گے
جب تمہاری زندگی میں کوئی دن نہ آۓ گا جو افکار و مشاغل سے خالی کو اور
تم پر کوئی رات نہ گزرے گی جس میں تم کسی ضرورت یا کسی غم کا احساس نہ کرو.
اگر تم کسی ظالم و جابر فرماں روا کو اس کے تخت سے اتارنا چاہتے ہو تو پہلے اس تخت کو تباہ کرو جو اس کے لیے تم نے ہ اپنے اندر بچھا رکھا ے.
اس لیے کہ کوئی ظالم و جابر فرماں روا اس رعایا پر حکومت نہیں کر سکتا جس میں آزادی کی تڑپ ہو جو آزادی کو اپنا سرمایا سمجھتی ہو تاوقتیکہ خود رعایا کی آزادی میں ظلم و استبداد کی ملاوٹ نا ہو. اور تاوقتیکہ خود رعایا کے وقار و عزت اور فخرو غرور میں ذلت و بے شرمی کے داغ دھبے نا ہوں.
_____________________
🖊عقل و جذبہ:
پھر ایک کاہنہ نے درخواست کی
ہمیں عقل و جذبے کے متعلق کچھ بتا
اور مصطفیٰ نے کہا
تمہاری عقلیں اور تمھارے جذبے تمہاری سمندر پر تیرنے والی روحوں کے پتوار اور بادبان ہیں.
اگر پٹوار ٹوٹ جاۓ یا بادبان پھٹ جاۓ تو موجیں تمھارے جہاز کو جھنجھوڑ دیں گی اور جدھر چاہیں گی بہا لے جائیں گی.
یا پھر وہ سمندر کے بیچ ہے حس و حرکت کھڑا ہو جاۓ گا.
اس لیے اگر تنہا عقل کی حکومت ہو تو وہ ایک ایسی قوت بن جاتی ہے جو تمہیں جکڑ کے رکھ دیتی ہے.
اور آگے جذبے کو آزاد چھوڑ دیا جاۓ تو وہ ایک ایسا شعلہ بن جاتا ہے جو خود اپنے تئیں جلا دیتا ہے.
_____________________
🖊علم:
ایک معلم نے کہا ہمیں تعلیم کے بارے کچھ بتا
اور مصطفیٰ بولا
جس طرح تم میں سے ہر ایک علم خداوندی میں اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے
اسی طرح تم میں سے ہر ایک کو خدا سے متعلق اپنے علم اور اسرار زمین سے متعلق اپنے فہم میں سب سے الگ ہونا چاہیے.
_______________________
🖊دوستی”
پھر ایک نوجوان بولا
ہمیں دوستی کے متعلق کچھ بتا
مصطفیٰ نے جواب دیا
تمھارا دوست تمہاری ضرورت ہے جو پوری ہو گئی ہو
تمہاری کھیتی ہے جس میں محبت کے بیج بوتے ہو
وہ تمہارا دستر خوان اور تمہارا چولہا ہے.
بھلا وہ بھی کوئی دوست ہے جو فرصت کے اوقات گزارنے کے لیے تلاش کرو
___________________________
🖊دعا:
پھر ایک راہبہ بولی
ہمیںدعا کے متعلق کچھ بتا
مصطفیٰ نے جواب دیا
تم لوگ اس وقت دعا مانگتے ہو جب کوئی مصیبت پڑتی ہے یا کوئی ضرورت پیش آتی ہے.
کاش تم اس وقت بھی دعا کرو جب تمھارے دل خوشی سے لبریز ہوں.
افسوس کہ میں تمہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ دعا کن الفاظ میں مانگی جاۓ
اس لیے کہ الله صرف وہی الفاظ سنتا ہے جنھیں وہ خود تمہاری زبانوں پر جاتی کرتا ہے.
______________________
🖊مذھب:
ایک پادری نے کہا مذھب کیا ہے؟
مصطفیٰ نے جواب دیا
اگر تم الله کا عرفان چاہتے ہو تو اپنے تئیں معمے حل کرنے میں نا الجھاؤ
بلکہ اپنے چاروں طرف دیکھو
تم اسے اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتا پاؤ گے
اور فضاء میں دیکھو
تم اسے بادلوں میں چلتے پھرتے، بجلی میں بازو پھیلاتے اور بارش میں ساتھ زمین پر اترتے دیکھو گے.
تم اسے پھولوں میں مسکرتے اور درختوں میں اشارے کرتے پاؤ گے.
=========================================