ہمارے شہر بارش کے بعد کیوں ڈوب جاتے ہیں؟
جو لوگ دیہاتی علاقوں سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ صدیوں سے دیہی علاقوں میں بنائے جانے والے مٹی کے کچے گھروں کی تعمیر کے وقت بھی اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا رہا ہے کہ مکان کو قدرتی برساتی نالوں سے دور اور محفوظ جگہ پر بنایا جاۓ یا ان نالوں کو متبادل راستہ دیا جاۓ. گھر کی چھت کا پانی بھی ایک خاص سمت میں موڑا جاتا ہے تاکہ اس سے مکان یا اس کے اردگر کی زمین کو کوئی نقصان نا ہو.
7457091512_72d98c6788_b
کراچی سمیت پاکستان کے بیشتر شہروں میں ہلکی پھلکی بارش کے بعد بھی سیلاب کیوں آ جاتا ہے؟ اس کی وجہ بہت سادہ ہے اگرچہ آپ اسے تیسری دنیا کا ایک عام سا مسلہ سمجھیں یا پھر کسی ایک حکومت یا جماعت کی نااہلی و کرپشن. کراچی لاہور حتکہ کے اب تو ایبٹ آباد جیسا قدرتی ڈھلوانوں والے شہر بھی بارش کے بعد زیر آب آ جاتا ہے. یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں. آپ خود سروے کر لیں، بیشتر علاقوں میں قدرتی ندی نالوں پر دکانیں، مکان، مساجد یا کوئی اور تعمیر ہو چکی ہے. اکثر شہروں میں بارش کا پانی بڑے ندی نالوں یا دریاؤں تک لے جانے والے تمام چھوٹے برساتی نالے ختم ہو چکے ہیں. مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ جدید سڑکیں اور انڈر پاسز بناتے وقت براۓ نام قسم کی نکاسی کا نظام ساتھ بنا دیا جاتا ہے جو سڑک یا انڈر پاس ختم ہوتے ہی غائب ہو جاتے ہیں، انسان پریشان ہو جاتا ہے کہ جو پانی سڑک کے ساتھ ساتھ عائشہ منزل سے لیاقت آباد تک آیا سڑک ختم ہونے کے بعد وہ کہاں جاۓ گا جب تک کہ اسے لیاری ندی تک کا راستہ نا دیا جاۓ. یہی وہ پانی ہے جو سڑکوں کو نالوں اور انڈر پاسز کو سوئمنگ پول بنا دیتا ہے کیوں کہ “جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے”. یہ شہری پلاننگ اور دیگر حکومتی اداروں کی سنگین نااہلی اور کام چوری کا منہ بولتا ثبوت ہے.
خیر جن جن علاقوں اور شہروں میں ندی نالے چائنا کٹنگ سے محفوظ ہیں وہاں پر کسر ہماری جہالت، خود غرضی اور غیر مہذب عادات نے نکال دیا ہے. اسلام آباد سمیت پاکستان کے کسی شہر میں “صفائی نصف ایمان ہے” کی اصلی جھلک نظر نہیں آتی حتکہ کہ شمالی علاقوں اور گلیات سمیت سیاحتی مقامات جہاں عمومی طور پر پڑھا لکھا طبقہ ہی جاتا ہے گند اور غلاظت کا ڈھیر لگتے ہیں. نا صفائی کا محکمہ اسے اٹھاتا ہے اور نا ہی ہم نے کبھی ماحول دوست روایت کو پنپے دیا. ہمارے تعلیمی اداروں میں صفائی ستھرائی کو محض انسانی جسم کی حد تک پڑھایا جاتا رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ دو کروڑ کی گاڑی سے بھی کیلے کا چھلکا سڑک پر پھینکا جاتا ہے. اب ایسی نسل سے یہ کیا امید کرنا کہ وہ اپنے گلی محلوں اور قصبوں اور شہروں کو صاف رکھیں گے.
نوے کی دھائی میں جن لوگوں نے ایبٹ آباد میں وقت گزارا ہے وہ جانتے ہیں کہ ایک وقت یہ شہر بہت خوب صورت ہوا کرتا تھا. مجھے یاد ہے جب میں صبح اسکول جایا کرتا تھا تو فوارہ چوک سے لیکر صدر بازار تک خاکروب روز سڑکیں صاف کر رہے ہوتے تھے، بعض اوقات تو پانی کا ٹرک ساتھ ساتھ سڑک دھو بھی رہا ہوتا تھا. یہ تمام کام میونسپل کمیٹی اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ کے ماتحت ہوا کرتا تھا. پھر بلدیاتی نظام لانے کی ناکام کوشش ہوئی جس کے بعد سیاسی لوگوں اور سرکاری افسران کے درمیان طاقت کی جنگ شروع ہوئی جس کے بعد بہت سے عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو گئے. رہی سہی کسر ہر محکمے میں سیاسی ورکروں کی بھرتیوں نے نکال دی. ایک اندازے کے مطابق کراچی میونسپل کارپوریشن میںPPP اور MQM کے ہزاروں لوگ بھرتی کیے گئے جو بنا کام کے تنخوائیں لے رہے ہیں. یہی حال پاکستان کے ہر شہر اور قصبے کا ہے. ظاہر ہے سیکٹر انچارج، بھتہ لینے والے یا سیاسی لوگوں کے سفید پوش چیلے چمچے آپ کا کوڑا کیوں اٹھائیں گے؟
پاکستان کے شہری علاقوں میں پچھلے بیس سالوں میں بے پناہ تبدیلیاں آ چکی ہیں اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی آبادی 2050 میں 40 کروڑو یعنی موجودہ آبادی کا دوگنا ہو جاۓ گی. یہ اس قدر سنگین مسلہ ہے کہ اسکا حل نا چائنا کہ پاس ہے نا امریکا اور وسائل کی کمی اور مزید تقسیم کے بعد اندازہ یہی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مسائل کم نہیں ہوں گے.
قدرت کا انتقام سخت ہے. ہم خدا کی عطا کی گئی زمین، پانی، ہوا جیسی نعمتوں کی بے قدری کرتے ہیں. جو کچرا اور گند ہم بہتے پانی کے نالوں، گلیوں، سڑکوں اور پڑوس میں موجود خالی پلاٹوں میں پھینکتے ہیں قدرت بارش کے بعد وہی ہمارے منہ پر مارتی
ہے.
flooding-water-in-city-rain-and-flood-concept-vector-21758050

Leave a comment